Emergency Help! +92 347 0005578
Advanced
Search
  1. Home
  2. اٹنگن کے بیج
اٹنگن کے بیج

اٹنگن کے بیج

  • September 25, 2024
  • 1 Like
  • 553 Views
  • 0 Comments

اُٹنگن کے بیج

نام :

فارسی میں انجرہ۔ عربی میں القریض۔ گجراتی میں اوٹنگن۔ مرہٹی میں کرڈو کہتے ہیں۔

Hakeem Syed Abdulwahab Shah Sherazi

(تحریر و تحقیق: حکیم سید عبدالوہاب شاہ شیرازی)

نام انگلش:

Name: blepharis edulis seeds

Scientific name: Blepharis Edulis Pers

Family: Acanthaceae

تاثیری نام:
مقام پیدائش:
مزاج  طب یونانی: 
مزاج  طب پاکستانی: 
نفع خاص:
مغلظ منی، مقوی اعصابجنوبی مغربی ہندوستانتر گرماعصابی غدیمغلظ منی

Blepharis edulis اٹنگن

تعارف:

یہ پودا عام طور پر خشک اور دھوپ والے علاقوں میں اگتا ہے۔ اس کے چھوٹے کانٹے دار پتے اور خوشبودار پھول ہوتے ہیں۔ جب یہ پھول سوکھ جاتے ہیں تو ان سے چھوٹے براؤن رنگ کے بیج نکلتے ہیں جو ہلکے چمکدار ہوتے ہیں۔ انہی بیجوں کو دوائی میں استعمال کیا جاتا ہے۔تخم اٹنگن Blepharis edulis کے بیج عموماً چھوٹے، گول یا دل کی شکل کے ہوتے ہیں۔ ان کا رنگ بھورا یا کبھی کبھار سیاہ مائل بھورا ہوتا ہے۔ یہ بیج پھل کے چھوٹے چھلکوں میں بند ہوتے ہیں جو خشک ہونے پر خود بخود کھل جاتے ہیں۔ تخم اٹنگن یعنی اٹنگن کے بیج بطور دوا استعمال ہوتے ۔

Blepharis edulis اٹنگن
Blepharis edulis اٹنگن

یہ بھی پڑھیں: ابہل

یہ بھی پڑھیں: ابرک

یہ بھی پڑھیں: ابریشم

Blepharis edulis اٹنگن خشک پودا

کیمیاوی و غذائی  اجزا:

بیجوں میں الکلائیڈ مواد سب سے زیادہ پایا جاتا ہے۔

فی 100 گرام خشک پودے میں:

وٹامنز:

وٹامن سی (ایسکوربک ایسڈ): ~ 15-20 ملی گرام۔     وٹامن ای (ٹوکوفیرولز): ~ 5-7 ملی گرام

اس کے علاوہ وٹامنز بی1،2،6 کی معمولی مقدار بھی پائی جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آلو بالو/ چیری

معدنیات:

کیلشیم 150-250 ملی گرام   آئرن 8-12 ملی گرام                   میگنیشیم  ~50-80 ملی گرام

پوٹاشیم300-450 ملی گرام  فاسفورس: 20-40 ملی گرام   زنک 0.8-1.5 ملی گرام      کاپر  0.2-0.4 ملی گرام

حیاتیاتی یا غذائی اجزاء:

 فلاوونائڈز: ~50-70 ملی گرام الکلائڈز: ~ 10-20 ملی گرام             سیپوننز: ~30-50 ملی گرام

ٹیننز: ~40-60 ملی گرام               فینولک مرکبات: ~50-70 ملی گرام     غذائی ریشہ: ~20-30 گرام

پروٹین: ~5-8 گرام                              کاربوہائیڈریٹ: ~30-40 گرام

Blepharis edulis اٹنگن
Blepharis edulis اٹنگن

اثرات:

اعصاب میں تحریک، غدد میں تحلیل اور عضلات میں تسکین پیدا کرتا ہے۔

Blepharis edulis اٹنگن کا پودا

خواص و فوائد

اٹنگن کے بیجوں میں رطوبات کو جذب کرنے کی صلاحیت ہے، اس لیے سرعت انزال اور سیلان الرحم میں مفید ہے۔ اعصاب کو تقویت دیتا ہے، اور غدد کی سوزش کو دفع کرتا ہے۔ مغلظ منی ہے۔گردو کی سوزش اور پیشاب کی جلن میں مفید ہے۔

Blepharis edulis اٹنگن کے بیج

اٹنگن کے بیج کو کان درد کے علاج کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے، جانوروں کے دودھ کی پیداوار بڑھانے کے لیے اٹنگن انہیں کھلایا جاتا ہے۔ اس کی جڑیں پیشاب کے اخراج کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔ جبکہ اس کا پاؤڈر جنسی اعضاء کے انفیکشن اور جلے ہوئے عضو پر لگایا جاتا ہے۔

Blepharis edulis اٹنگن کا پودا

مختلف ممالک میں روائتی طب میں اس کے مندرجہ ذیل فوائد بیان کیے گئے ہیں: سانس کے مسائل جیسے دمہ اور کھانسی کا علاج۔  ہضم کی خرابیوں کا انتظام کرنا جیسے بدہضمی، اسہال، اور پیچش۔ مردوں اور عورتوں دونوں میں تولیدی صحت کو بڑھانا۔  زخموں اور جلد کے انفیکشن کو ٹھیک کرنا۔ سوزش کو کم کرنا اور ینالجیسک کے طور پر کام کرنا۔

جدید سائنسی تحقیقات

اٹنگن Blepharis edulis جیسے پودے صدیوں سے روایتی علاج میں مفید مانے جاتے ہیں، ان میں سوجن کم کرنے، زخم بھرنے، اور جسم کو طاقت دینے والے قدرتی اجزا پائے جاتے ہیں۔ لیکن ابھی سائنسی طور پر ان کے اثرات کو مکمل طور پر ثابت کرنے کے لیے مزید تحقیق درکار ہے۔اٹنگن میں مختلف مفید مادے پائے گئے ہیں:

  • فلیوونائڈز (قدرتی رنگ دار مادے جو جسم کو طاقت دیتے ہیں)
  • الکالائیڈز (دوائیوں جیسے اثر رکھنے والے مادے)
  • فینولک ایسڈز (سوجن اور انفیکشن کم کرنے والے مادے)
  • پلانٹ اسٹیرولز اور ہائیڈروکسامک ایسڈز (جو جسم کے خلیوں کو مضبوط کرتے ہیں)

حوالہ۔ پی ایم سی۔ 

مقدار خوراک:

تین سے پانچ گرام

Blepharis edulis اٹنگن کے پھول

Important Note

اعلان دستبرداری
اس مضمون کے مندرجات کا مقصد عام صحت کے مسائل کے بارے میں بیداری پیدا کرنا ہے ، لہذا اسے آپ کی مخصوص حالت کے لیے مناسب طبی مشورے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ اس مضمون کا مقصد جڑی بوٹیوں اور کھانوں کے بارے میں تحقیق پر مبنی سائنسی معلومات کو شیئر کرنا ہے۔ آپ کو اس مضمون میں بیان کردہ کسی بھی تجویز پر عمل کرنے یا اس مضمون کے مندرجات کی بنیاد پر علاج کے کسی پروٹوکول کو اپنانے سے پہلے ہمیشہ لائسنس یافتہ میڈیکل پریکٹیشنر سے مشورہ کرنا چاہیے۔ ہمیشہ لائسنس یافتہ، تجربہ کار ڈاکٹر اور حکیم سے علاج اور مشورہ لیں۔


Discover more from TabeebPedia

Subscribe to get the latest posts sent to your email.

Leave a Reply

Discover more from TabeebPedia

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading