
آبنوس

(تحریر و تحقیق: حکیم سید عبدالوہاب شاہ شیرازی)
نام:
عربی، فارسی میں آبنوس۔ یہ کالی لکڑی کے نام سے بھی مشہور ہے۔
نام انگلش:
Name: Ebony
Scientific name: Diospyros ebenum
Family: Ebenaceae
تاثیری نام: | مقام پیدائش: | مزاج طب یونانی: | مزاج طب پاکستانی: | نفع خاص: |
| رادع، حابس و قابض | افریقہ سمیت دنیا کے کئی ممالک میں | خشک سرد | عضلاتی اعصابی | رطوبات کو ختم کرکے زخم مندمل کرتا ہے۔ |
تعارف:
آبنوس ایک سخت، بھاری، پائیدار لکڑی پیدا کرنے والا درخت ہے، جس کی لکڑی سیاہ ہونے پر سب سے زیادہ قیمتی ہوتی ہے، یہ صندل سے بھی زیادہ مہنگی ہے، اسے افریقن بلیک وڈ بھی کہا جاتا ہے۔

یہی لکڑی ، اور اس کا پھل ، پتے وغیرہ بطور دوا استعمال ہوتی ہے۔

اس درخت کے پتے صنوبر کے درخت کی طرح ہوتے ہیں اور اس کے بیج تخم خیار کی طرح ہوتے ہیں، اس درخت کے پتے جھڑتے نہیں ہیں یعنی خزاں میں بھی موجود ہوتے ہیں۔ اس کا ذائقہ پھیکا تلخی مائل ہوتا ہے۔اس درخت کی ایک خاص بات یہ ہے کہ اس میں برقی رو گذارنے کی صلاحیت سب سے زیادہ ہوتی ہےاسی لیے کچھ الیکٹرک آلات میں اس کا استعمال کیا جاتا ہے۔اسی طرح اس کی لکڑی موسیقی کے آلات میں بھی استعمال ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آبکامہ( کانجی ولائتی)
یہ بھی پڑھیں: ایلوویرا / کوار گندل / گھیکوار
یہ بھی پڑھیں: ایشر مول / زراوند

کیمیاوی و غذائی اجزا:
١. نفتھوکُوئنونز (Naphtoquinones)
ایبنی کوئنونز (Ebonyquinones) بیٹا نفتھالڈیہائڈ ڈیریویٹیوز (β‑Naphthaldehyde Derivatives)
٢. ٹیننز (Tannins)
پروٹین بائنڈنگ ٹیننز (Protein‑Binding Tannins)
پولیفینولک ایسٹرنجنٹ کمپاؤنڈز (Polyphenolic Astringent Compounds)
٣. فلیونوائڈز (Flavonoids)
میتھانولک/الکحلک نکالوں میں موجود اینٹی آکسیڈینٹ فلیونوائڈز
٤. ٹرائیٹرپینائڈز اور سٹیرائڈز (Triterpenoids & Steroids)
بیٹولن (Betulin) بیٹولینک ایسڈ (Betulinic Acid) اُرسولک ایسڈ (Ursolic Acid)
الفا و بیٹا سِٹرولز (α & β‑Sitosterol)
٥. دیگر سیکنڈری میٹابولائٹس
الکالوئڈز (Alkaloids) گلیکوسائیڈز (Glycosides)
کاربوہائیڈریٹس اور ساکھڑائڈز (Carbohydrates & Saccharides)
اثرات:
رادع یعنی مادے کو ہٹانے والی ، حابس روکنے والی ا ور قابض یعنی سکیڑ پیدا کرنے والی، مجفف رطوبات یعنی خشک کرنے والی ،اور دافع جوش خون، مصفی خون، مندمل زخم اثرات رکھی ہے۔
خواص و فوائد
اس میں لوہے جیسی صفات ہیں۔ سرد خشک ہونے کی وجہ سے خون کے جوش میں تسکین دیتا ہے اور بہنے والے زخموں کی رطوبات کو خشک کرتا ہے، اسی وجہ سے مصفی خون بھی ہے۔ چونکہ یہ مجفف رطوبات ہے اس لیے سیلان الرحم اور جریان منی میں مفید ہے۔ خنازیر پر اس کا طلا بہت فائدہ مند ہے۔ اس کے پتے افریقہ کے لوگ داغ دھبوں کے علاج کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
جدید سائنسی تحقیقات
آبنوس میں موجود ایبنی کوئنونز (Ebonyquinones) اور بیٹا نفتھالڈیہائڈ ڈیریویٹیوز (β‑Naphthaldehyde Derivatives) بیکٹیریا اور فنگس کے خلاف مؤثر اثر رکھتے ہیں، اس لیے یہ چھوٹے زخموں اور جلدی انفیکشن میں مددگار ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، اس میں پائے جانے والے فلیونوائڈز اور ٹیننز (Flavonoids & Tannins) مضبوط اینٹی آکسیڈینٹ خصوصیات رکھتے ہیں جو جسم میں خلیاتی نقصان کو کم کرتے ہیں اور قوت مدافعت بڑھانے میں مدد دیتے ہیں۔ ایبنی کے ٹرائیٹرپینائڈز (Triterpenoids) جیسے بیٹولینک ایسڈ اور اُرسولک ایسڈ اینٹی انفلامیٹری اثرات رکھتے ہیں، یعنی سوجن اور درد کم کرنے میں مفید ہو سکتے ہیں۔ مزید یہ کہ ٹیننز کی ایسٹرنجنٹ خصوصیات چھوٹے زخموں کی جلدی مرمت میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔
حوالہ جات: (PMC )۔ (ask-ayurveda)۔ ( International Journal Of Pharmaceutical Sciences And Research)۔
مقدار خوراک:
چار گرام سے آٹھ گرام تک
Discover more from TabeebPedia
Subscribe to get the latest posts sent to your email.


Leave a Reply