Emergency Help! +92 347 0005578
Advanced
Search
  1. Home
  2. اڑوسہ بانسہ
اڑوسہ بانسہ

اڑوسہ بانسہ

  • October 7, 2024
  • 0 Likes
  • 1090 Views
  • 0 Comments

اڑوسہ / بانسہ

نام :

عربی میں حشیشۃ السعال ۔ گجراتی میں آڑڈشو۔ ہندی میں بانسہ۔ مرہٹی میں آڈلسا۔ پنجابی میں بسونٹا، بھیکڑ۔ بنگالی میں پاکش کہتے ہیں۔

Hakeem Syed Abdulwahab Shah Sherazi

(تحریر و تحقیق: حکیم مولانا سید عبدالوہاب شاہ شیرازی)

نام انگلش:

Name: Vasaka / Adhatoda Vasica Nees

Scientific name: Justicia adhatoda

Family: Acanthaceae

تاثیری نام:
مقام پیدائش:
مزاج  طب یونانی: 
مزاج  طب پاکستانی: 
نفع خاص:
مولد حرارت، دافع سودا۔ مخرج بلغم، مصفی خونہند و پاکستان گرم تر دوسرے درجے میں۔غدی اعصابیسانس کے امراض،  دافع سودا، مصفیٰ خون، مخرج بلغم

تعارف:

بانسہ، اڑوسہ یا بھیکڑ جھاڑی نما پودا ہے، پتھریلی زمینوں میں پایا جاتا ہے۔ اس کے پتے آم کے پتوں کی طرح ہوتے ہیں، اس کے ساتھ سفید رنگ کے پھول لگتے ہیں، جبکہ ایک اور قسم کے ساتھ پیلے پھول لگتے ہیں، یہ کانٹے دار ہوتا ہے اور پیلے پھول والے میں حرارت بھی زیادہ ہوتی ہے۔بانسہ  کے پھول گچھوں کی صورت میں ہوتے ہیں اور ایسے لگتے ہیں جیسے شیر کا کھلا ہوا منہ ہوتا ہے۔ یہ سال میں دو بار پھولتا ہے۔ اس کے پھولوں کے نیچے شہد کی طرح کا رس بھی ہوتا ہے جسے شہد کی مکھیاں کھا جاتی ہیں، اس کے پھولوں کی گلقند بھی تیار کی جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ارڈ دال ماش

یہ بھی پڑھیں: ارہر کی دال

یہ بھی پڑھیں: اروی

کیمیاوی و غذائی  اجزا:

(سوکھے پتے فی 100 گرام):

معدنیات

کیلشیم:  800 ملی گرام۔         آئرن: 5.7 ملی گرام          فاسفورس: 110 ملی گرام

پوٹاشیم: 260 ملی گرام         میگنیشیم: 90 ملی گرام

 وٹامنز

ٹامن سی (ایسکوربک ایسڈ): 20-30 ملی گرام        وٹامن اے (بیٹا کیروٹین): 15-20 ملی گرام

وٹامن بی کمپلیکس (B1, B2, B3, B6):معمولی مقدار میں پایا جاتا ہے،  0.1–1 ملی گرام

دیگر غذائی اجزاء

پروٹین: 2-4 گرام            کاربوہائیڈریٹس: 8-12 گرام             غذائی ریشہ: 4-6 گرام

حوالہ: IDOSI۔ 

الکالائیڈز (Alkaloids)

سب سے اہم: Vasicine  ایک کِنَازولِن (quinazoline) الکالائیڈ جو سانس کی نالی کے امراض میں استعمال ہوتا رہا ہے۔

دیگر: Vasicinone, Deoxyvasicine, Vasicinol، وغیرہ۔

حوالہ: PubMed۔

 فلوانوائڈز (Flavonoids)

پتّوں میں مختلف فلوانوائڈز پائے گئے ہیں جو اینٹی آکسیڈنٹ اور دیگر طبی اثرات رکھتے ہیں۔

 فنولک مرکبات اور ٹاننز (Phenolic compounds & Tannins)

پتّوں میں فنولک ایسڈز، ٹاننز (tannins) اور دیگر متعلقہ اجزاء بھی دریافت ہوئے ہیں، جو سوزش، اینٹی آکسیڈنٹ اور جرثومہ کش سرگرمیوں میں معاون ہو سکتے ہیں۔

حوالہ: jddtonline.info۔ 

 سَپونِنز، سٹیرولز، ٹیرپینوئڈز (Saponins, Sterols, Terpenoids)

اس پودے کے پتّوں میں سَپونِنز، سٹیرولز (مثلاً β‑Sitosterol) اور ٹیرپینوئڈز بھی پائے گئے ہیں۔

مخصوص بایو ایکٹو مرکبات (Specific bioactive compounds)

ذیل میں چند اہم مخصوص اجزاء دیے گئے ہیں جن کی سرگرمیاں مختلف طبی مطالعوں میں ثابت ہوئی ہیں۔

  • Phytol — اینٹی نوسیسپٹو (درد کم کرنے والا)، اینٹی آکسیڈنٹ، اینٹی سوزش اور بخار کم کرنے والا اثر۔
  • Oleanolic acid — اینٹی سوزش، بخار کم کرنے والا، درد کم کرنے والا۔
  • Hexadecanoic acid ethyl ester — اینٹی آکسیڈنٹ اور اینٹی سوزش خصوصیات والا۔
  • β‑Sitosterol — سٹیرول کی قسم، جو مختلف طبی اثرات کے حامل ہے۔
  • Linoleic acid ethyl ester — ایک فیٹی ایسڈ انش Ester شکل میں، طبی اثرات کے لیے شناخت ہوا ہے۔

حوالہ: Frontiers۔ 

اثرات:

غدد میں تحریک پیدا کرتا ہے جس کی وجہ سے مولد حرارت و صفرا ہے، صفرا کا اخراج بھی کرتا ہے۔ دافع سودا ہونے کی وجہ سے سودا کا خاتمہ کرتا ہے۔ مخرج بلغم ہونے کی وجہ سے پھیپڑوں سے غلیظ بلغم کا اخراج کرتا ہے۔

خواص و فوائد

بھیکڑ یا اڑوسہ کا قہوہ پینے سے پھیپڑوں میں پھنسی ہوئی بلغم خارج ہو جاتی ہے، دمہ، ٹی بی، تپ دق کا بہترین علاج ہے۔نزلہ، زکام، کھانسی میں بہت مفید ہے۔ سانس کی تنگی کی بیماری میں بہت اعلیٰ چیز ہے۔ دافع تشنج ہونے کی وجہ سے جسم کے اکڑاؤ، جکڑاؤ میں مفید ہے۔خون کو صاف کرتا ہے۔ اگر گردوں میں فاسفیٹ کی پتھری ہو تو اسے توڑ دیتا ہے۔ اس کا سفوف تازہ زخموں سے بہنے والے خون کو روک دیتا ہے۔  پیلے پھولوں والا بانسہ ناسور کے لیے بھی مفید ہے۔

بانسہ ہوا کی نالیوں سے بلغم کو صاف کرنے میں مدد کرتا ہے، سانس لینے کو آسان بناتا ہے، اینٹی بیکٹیریل اور اینٹی فنگل خصوصیات کی وجہ سے سانس کی نالی کے انفیکشن کو روکنے میں معاون ہیں۔جدید سائنسی تحقیقات سے پتا چلا ہے کہ یہ پھیپھڑوں میں ہوا کی نالیوں کو چوڑا کرنے میں مدد کرتا ہے، جس سے دمہ میں مبتلا افراد کے لیے سانس لینے میں آسانی ہوتی ہے۔ تحقیقات سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ اس کی ویکسین سانس لینے کو تیز کر سکتی ہے۔

جدید سائنسی تحقیقات

ایک سائنسی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ یہ پودا سانس کی نالی کے امراض کے لیے مفید ہے، لیکن حمل کے دوران یا مخصوص حالات میں محتاط استعمال ضروری ہے کیونکہ اس میں مسقط حمل اثرات بھی پائے جاتے ہیں۔ حوالہ: این آئی ایچ۔ 

اڑوسہ اور کینسر

ایک اور  تحقیق اڑوسہ  Justicia adhatoda کے پتوں کے عرق (leaf extract) کے کینسر کے خلاف اثرات جانچنے کے لیے کی گئی، جس میں مندرجہ ذیل معلومات حاصل ہوئیں:

  1. کیمیائی اجزاء اور اینٹی آکسیڈنٹ خصوصیات: پتوں کے عرق میں ایسے مرکبات موجود ہیں جو جسم میں نقصان دہ آزاد ذرات (free radicals) کو کم کرتے ہیں۔
  2. کینسر سیلز پر اثر: عرق نے مختلف کینسر سیل لائنز میں تجربات کیے، سب سے زیادہ اثر چھاتی کے کینسر کی سیلز (MCF‑7) میں دیکھا گیا۔
  3. سیلز کی موت اور نشوونما: عرق نے کینسر سیلز کی بڑھوتری روکی اور ان کی موت (apoptosis) کو بڑھایا۔
  4. سیل کے اندر تبدیلیاں:سیلز کے اندر reactive oxygen species (ROS) زیادہ بنے، جو کینسر سیلز کو نقصان پہنچاتے ہیں۔mitochondria (سیل کی توانائی پیدا کرنے والی مشین) کی کارکردگی بدل گئی۔بعض حفاظتی انزائمز (superoxide dismutase اور glutathione) کی سطح کم ہوئی۔
  5. اہم پروٹینوں پر اثرات: کینسر سیلز میں caspase-3، Bax، اور cleaved-PARP کی سطح بڑھ گئی، جو سیل کی موت کو تیز کرتی ہیں۔ NF-κB پروٹین کی سطح بھی بدلی، جو سیلز کے سسٹم میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
  6. سیل کی حرکت اور گروہ بندی: عرق نے کینسر سیلز کی حرکت اور نئے گروہ (colonies) بنانے کی صلاحیت کو بھی روکا۔

خلاصہ یہ کہ اڑوسہ کے پتوں کا عرق چھاتی کے کینسر کی سیلز میں مضبوط اثر دکھاتا ہے، سیلز کو مارنے اور ان کی بڑھوتری روکنے کے ذریعے۔

حوالہ: این آئی ایچ۔ 

مقدار خوراک:

پتوں کا پاؤڈر: 1-3 گرام۔  پھول پاؤڈر: 250 – 1000 ملی گرام۔  جڑ کا پاؤڈر: 250-500 ملی گرام

پتوں کا رس: 5-10 ملی لیٹر۔ قہوہ: ایک گلاس گرم پانی میں 5 گرام پاؤڈر

Important Note

اعلان دستبرداری
اس مضمون کے مندرجات کا مقصد عام صحت کے مسائل کے بارے میں بیداری پیدا کرنا ہے ، لہذا اسے آپ کی مخصوص حالت کے لیے مناسب طبی مشورے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ اس مضمون کا مقصد جڑی بوٹیوں اور کھانوں کے بارے میں تحقیق پر مبنی سائنسی معلومات کو شیئر کرنا ہے۔ آپ کو اس مضمون میں بیان کردہ کسی بھی تجویز پر عمل کرنے یا اس مضمون کے مندرجات کی بنیاد پر علاج کے کسی پروٹوکول کو اپنانے سے پہلے ہمیشہ لائسنس یافتہ میڈیکل پریکٹیشنر سے مشورہ کرنا چاہیے۔ ہمیشہ لائسنس یافتہ، تجربہ کار ڈاکٹر اور حکیم سے علاج اور مشورہ لیں۔


Discover more from TabeebPedia

Subscribe to get the latest posts sent to your email.

Leave a Reply

Discover more from TabeebPedia

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading