
املی
نام :
اردو میں املی، عربی اور فارسی میں “تمرہندی” اور سندھی میں گدامڑی کہتے ہیں۔

(تحریر و تحقیق: حکیم مولانا سید عبدالوہاب شاہ شیرازی)
نام انگلش:
Name: Tamarind
Scientific name: Tamarindus indica
Family: Fabaceae
تاثیری نام: | مقام پیدائش: | مزاج طب یونانی: | مزاج طب پاکستانی: | نفع خاص: |
| مولد سودا، مقوی قلب، | انڈیا ،انڈونیشیا، ملائیشیاء، سری لنکا، فلپائن | خشک سرد درجہ دوم | عضلاتی اعصابی | مولد سودا، مقوی قلب، دافع پیاس |

تعارف:
املی کا پورا درخت ہوتا ہے، اور یہ سدا بہار درخت ہے۔ املی کے درخت کے ساتھ گرمیوں کے موسم میں پھول لگتے ہیں، پھر ان سے پھلیاں نکلتی ہیں جن کی شکل سرس کی پھلیوں جیسی ہوتی ہے، ان پھلیوں کے اندر املی کے بیج بنتے ہیں اور ان بیجوں کے گرد املی کا گودا ہوتا ہے۔ ایک من املی کے بیجوں سے تقریبا بیس سے پچیس کلو گودا نکلتا ہے۔اور یہی گودا عام طور پر کھانے پینے میں آتا ہے، البتہ ادویات میں املی کے بیجوں کا استعمال بھی ہوتا ہے۔
انڈونیشیا، ملائیشیاء، سری لنکا، فلپائن اور بحرلکاہل کے جزائر میں پیدا ہوتی ہے، لیکن اب دنیا کے اور بھی بہت سے ممالک اس کی پیداوار کر رہے ہیں جن میں بھارت سرفہرست ہے جہاں سالانہ 3 لاکھ ٹن املی کی پیداوار ہوتی ہے۔ املی کی پیداوار پاکستان میں بہت کم ہے۔

یہ بھی پڑھیں: تمام حکماء توجہ فرمائیں!
یہ بھی پڑھیں: امڑہ
یہ بھی پڑھیں: املتاس

کیمیاوی و غذائی اجزا:
املی نا صرف وٹامنز و منرلز کا ذریعہ نہیں بلکہ اس میں متعدد ایسی مرکبات بھی ملتے ہیں جن کا غذائی اور طبیاتی لحاظ سے کردار ہو سکتا ہے۔
پروکسیمیٹ اور میکرو اجزا:
فی 100 گرام
کاربوہائیڈریٹس: تقریباً 62.5 گرام پروٹین: تقریباً 2.8 گرام چکنائی (فیٹ): تقریباً 0.6 گرام
غذائی ریشہ (ڈائیٹَری فائبر): ~5.1 گرام

دیگر بائیوایکٹو مرکبات:
تحقیقی مطالعات میں درج ہے کہ تامرِند کے مختلف حصّے (پَل، بیج، پتّے) متعدد فعال مرکبات رکھتے ہیں:
- فینولِک ایسڈز جیسے گَلیک ایسڈ (Gallic Acid)، کیفَک ایسڈ (Caffeic Acid)، فیورِلِک ایسڈ (Ferulic Acid)
- فِلَوَنوائِڈز جیسے کیکیٹن (Catechin)، کوئرسیٹن (Quercetin)، اپی جِینن (Apigenin)، لوٹِیوْلن (Luteolin)، وِٹِکسِن (Vitexin)
- ٹرِپِرینوئِڈز (Triterpenoids)، سٹیرولز (Sterols)، گیلیکسیلوگلوکَانز (Galactoxyloglucans) بیج اور پَل میں پائے گئے ہیں
- آرگَنِک ایسِڈز جیسے ٹارٹاریِک ایسِڈ (Tartaric Acid)، سِٹریک ایسِڈ (Citric Acid)، مَیلِک ایسِڈ (Malic Acid) پَل میں
گُمّیں اور مُسیلیجس پالی سَکّھَرائیڈز (Biopolymers) جیسا کہ گَلیکسیلوگلوکان (Galactoxyloglucan) بیج میں
یہ بائیوایکٹو اجزا اینٹی آکسیڈنٹ، اینٹی مائکروبِیل، اینٹی انفلیمیٹری اور دوسرے حیاتیاتی سرگرمیوں میں شریک ہو سکتے ہیں۔ مثلاً، ایک جائزہ نے درج کیا ہے کہ تامرِند کے پتّے اور پَلس مَثر اینٹی آکسیڈنٹ سرگرمی دکھاتے ہیں۔
وٹامنز:
املی میں تھامین (B₁)، ریبوفلاوِن (B₂)، نیاسِن (B₃)، فولیٹ (B₉)، وٹامن C، وٹامن A اور وٹامن K شامل ہیں۔ ان میں سے وٹامن C اور B گروپ کے وٹامنز نمایاں ہیں، لیکن وٹامن A اور K کی مقدار بہت کم ہے۔
منرلز:
کیلشیم، آئرن، میگنیشیم، فاسفورس، پوٹاشیم، سوڈیم، تانبا اور زنک پائے جاتے ہیں۔ پوٹاشیم اور میگنیشیم کی مقدار نسبتاً زیادہ ہے، جبکہ زنک اور تانبا کم مقدار میں موجود ہیں۔
حوالہ جات: My Food Data۔ Frontiers۔ iscientific.org۔ SpringerLink۔ Food Struct۔ Nutrition And You۔

اثرات:
چونکہ یہ عضلاتی اعصابی مزاج رکھتی ہے، اس لیے اس کے استعمال سے جسم میں ترشی بڑھتی ہے، سودا کی پیدائش ہوتی ہے، بلغم غلیظ ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ اور جسم میں سردی خشکی کے اثرات پیدا ہوتے ہیں۔املی کے بیج قبض پیدا کرتے ہیں۔
خواص و فوائد
املی قے کو دفع کرتی ہے، دل کو طاقت دیتی ہے، بلغم کے لیے مسہل اور مغلظ ہے، بلغمی بخاروں میں مفید ہے اور پیاس بجھاتی ہے۔ املی میں ترشی پائی جاتی ہے، جسے جدید سائنس میں وٹامن سی کہا جاتا ہے۔ چونکہ املی محرک عضلات و قلب ہے، اس لیے اس کے مسلسل استعمال سے قلب و عضلات میں سوزش پیدا ہوکر گھبراہٹ اور بے چینی پیدا ہوجاتی ہے۔ بطور دوا استعمال کے لیے ایک سال پرانی املی بہتر سمجھی جاتی ہے۔
جدید سائنسی تحقیقات
1. ہاضمے کے لیے مفید
املی کے پَل (Pulp)میں موجود آرگَنِک ایسِڈز (ٹارٹاریِک ایسِڈ، سِٹریک ایسِڈ، مَیلِک ایسِڈ) اور غذائی ریشہ ہاضمہ بہتر بنانے میں مدد دیتے ہیں۔ یہ قبض دور کرنے اور آنتوں کی صحت کے لیے مفید ہیں۔ پَل (Pulp) سے مراد وہ حصہ ہے جو بیج کے گرد نرم، رسیلا اور کھٹا میٹھا ہوتا ہے، اور عام طور پر خوراک یا رس میں استعمال ہوتا ہے۔
2. اینٹی آکسیڈنٹ اثر
املی میں فینولِک ایسڈز (گَلیک ایسڈ، کیفَک ایسڈ، فیورِلِک ایسڈ) اور فِلَوَنوائِڈز (کیکیٹن، کوئرسیٹن، اپی جِینن) شامل ہیں، جو جسم میں آزاد ریڈیکلز کو کم کر کے خلیوں کی حفاظت کرتے ہیں اور عمر رسیدگی کے اثرات کو سست کر سکتے ہیں۔
3. مدافعتی نظام کی تقویت
اس میں وٹامن C اور متعدد بائیوایکٹو مرکبات پائے جاتے ہیں جو مدافعتی نظام کو مضبوط کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
4. بلڈ شوگر کنٹرول
کچھ مطالعات نے بتایا کہ املی میں موجود بائیوایکٹو اجزا بلڈ شوگر کو معتدل رکھنے میں معاون ہو سکتے ہیں، خاص طور پر ذیابیطس کے مریضوں کے لیے۔
5. دل کی صحت
پوٹاشیم، میگنیشیم اور فینولِک مرکبات دل کی صحت کے لیے مفید ہیں، بلڈ پریشر کو معتدل رکھتے ہیں اور قلبی امراض کے خطرے کو کم کرنے میں مددگار ہو سکتے ہیں۔
6. اینٹی مائکروبِیل اور اینٹی انفلیمَٹری اثر
املی کے پَل (Pulp)اور پتّے میں پائے جانے والے فینولز اور فِلَوَنوائِڈز اینٹی بیکٹیریل اور اینٹی انفلیمَٹری سرگرمی رکھتے ہیں، جو جسم میں سوزش اور انفیکشن کے خلاف کام کرتے ہیں۔
7. چربی اور وزن کنٹرول
املی کا غذائی ریشہ اور پالی سَکّھَرائیڈز (Biopolymers) جسم میں فیٹ کے جذب کو کم کرنے اور وزن کنٹرول میں مددگار ہو سکتے ہیں۔
حوالہ جات:
Frontiers in Nutrition۔ ResearchGate۔
مقدار خوراک:
بیس گرام سے پچاس گرام
Discover more from TabeebPedia
Subscribe to get the latest posts sent to your email.


Leave a Reply