Emergency Help! +92 347 0005578
Advanced
Search
  1. Home
  2. جمعیت اطباء علماء پاکستان
جمعیت اطباء علماء پاکستان
Jamiat Atibba Ulama Pakistan

قابلِ صد احترام حکیم علماء کرام! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

اللہ تعالیٰ نے آپ کو دین کی خدمت کے ساتھ ساتھ خلقِ خدا کی جسمانی صحت کی حفاظت (طب) جیسے عظیم شعبے سے وابستہ کیا ہے۔ وقت کی ضرورت ہے کہ ہم اپنی انفرادی کوششوں کو ایک منظم قوت میں بدلیں۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ تمام حضرات “جمعیت اطباء العلماء پاکستان” کا حصہ بنیں تاکہ ہم مل کر ایک ایسی مضبوط آواز بن سکیں جو حکومتی ایوانوں میں تسلیم کی جائے اور طب و شریعت کی خدمت کو مزید منظم کیا جا سکے۔

Jamiat Atibba Ulama Pakistan
Jamiat Atibba Ulama Pakistan

یہ ضرورت اس لیے پیش آئی کہ ہماری اسلامی تاریخ میں ہمیشہ حکیم علماء ہی ہوتے تھے، پھر چند سال پہلے حکومت پاکستان نے ایسے قوانین متعارف کروائے جن سے علماء کے لیے طب کا دروازہ بند ہو گیا مثلا میٹرک سائنس کی شرط عائد کرنا۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ ایک سولہ سترہ سال کا بچہ جس نے فریش میٹرک سائنس کی ہو اسے تو طبیہ کالجز میں داخلہ مل جاتا ہے لیکن دوسرا وہ شخص جس نے میٹرک آرٹس میں کی ہے پھر اس کے بعد آٹھ سالہ درس نظامی کیا ، یا ایف اے، بی اے، ایم اے، ایم فل اور پی ایچ ڈی تک کی ڈگری حاصل کرلی سے اسے داخلہ نہیں دیا جاتا، گویا قانون کی پیچیدگی یہ بتارہی ہوتی ہے کہ سولہ سال کا بچہ جو میٹرک سائنس ہے وہ ایم اے اور پی ایچ ڈی ڈاکٹر سے زیادہ اہل ہے کہ طبیہ کالج میں داخلہ لے کر علم طب سیکھ سکے۔

کسی بھی شعبے کے لیے جو شرائط رکھی جاتی ہیں ان کا ایک مقصد ہوتا ہے، مثلا طبیہ کالج میں داخلے کے لیے میٹرک سائنس کی شرط کا مقصد یہ ہے کہ طبیہ کالج میں داخلے کے لیے میٹرک سائنس کی ذہنی استعداد اور لیول کا شخص ہونا چاہیے، یہ اچھی بات ہے، لیکن دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں جس شخص نے اگرچہ میٹرک آرٹس میں کی ہے لیکن اس کے بعد اس نے مدارس، کالجز، یونیورسٹیز میں دس پندرہ سال مزید تعلیم حاصل کی ہے تو اس کی ذہنی استعداد اسے سولہ سترہ سالہ بچے سے زیادہ ہو جاتی ہے، لیکن انہیں طبیہ کالج میں داخلہ نہیں دیا جاتا۔ یہ بہت بڑا تضاد اور پیچیدگی ہے۔

ہمارا مقصد یہ ہے کہ جو شخص صرف میٹرک ہو اس کے لیے تو میٹرک سائنس کی شرط ہونی چاہیے یا ایف ایس سی کی شرط ہونی چاہیے لیکن جس نے میٹرک کے بعد آٹھ سالہ درس نظامی کرلیا ہے یا ایم اے یا ایم فل کرلیا ہے اس کے لیے یہ شرط نہیں ہونی چاہیے۔

اس لیے ہم اس بات کی کوشش کررہے ہیں کہ درس نظامی کی آخری سند شہادۃ العالیہ کی بنیاد پر طبیہ کالجز میں داخلہ آسان بنایا جائے اور حکومت سے یہ منظور کروایا جائے کہ مدارس کے فاضلین کو طبیہ کالجز میں داخلے ملیں۔

اب جو نیا ایکٹ آرہا ہے جس میں حکومت طبیہ کالجز میں داخلے کے لیے ایف ایس سی کو ضروری شرط قرار دینے کا ارادہ رکھتی ہے، یہ اچھی بات ہے لیکن جو ایف ایس سی تو نہیں لیکن اس کے بعد مزید آٹھ دس سال اس نے دیگر تعلیم حاصل کی ہے اور وہ یونیورسٹی لیول کا اور یونیورسٹی ذہنی استعداد کا مالک ہے اسے بھی طبیہ کالج میں داخلہ ملنا چاہیے۔

کچھ دن قبل میں نے ایک نوجوان کو طبیہ کالج میں داخلہ دلوانا چاہا جو عصری علوم میں ایف اے تک پڑھا تھا، اس کے ساتھ ساتھ فاضل درس نظامی تھا، اور مفتی بھی تھا، اور ایم فل کے لاسٹ ایئر میں یونیورسٹی کا طالبعلم تھا، عربی اور انگلش زبانوں کے کورسز کیے ہوئے تھے، لیکن طبیہ کالج نے یہ کہہ کر داخلہ مسترد کردیا کہ  اس کے پاس میٹرک سائنس  کا سرٹیفکیٹ نہیں۔

سرکاری طب کونسل ، وزارت صحت اور حکومت کو ان مسائل کی طرف متوجہ کرنا اور حکیم علماء، اور مدارس کے طلباء کے حق کے لیے یہ جدوجہد کرنا ہمارا مقصد ہے۔

جمعیت اطباء علماء پاکستان کا منشور و مقاصد

اسلامی تاریخ میں اطباء اور علماء دو الگ گروہ نہیں تھے، بلکہ علمائے دین ہی انسانیت کی جسمانی شفا کے ضامن (طبیب) ہوا کرتے تھے۔ دورِ حاضر میں تعلیمی قوانین کی پیچیدگیوں نے علماء کے لیے طب کے حصول کو مشکل بنا دیا ہے۔ یہ تنظیم اس تضاد کو ختم کرنے اور طب و شریعت کے قدیم رشتے کو جدید سائنسی بنیادوں پر بحال کرنے کے لیے قائم کی گئی ہے۔

سوم: عملی لائحہ عمل

 

  • نیشنل کونسل فار طب کے اراکین اور حکومتی حکام سے ملاقاتوں کے لیے ایک “اعلیٰ سطح وفد” کی تشکیل۔
  • قانونی ماہرین کے ذریعے عدالتِ عالیہ میں تعلیمی تضادات کے خلاف چارہ جوئی کی تیاری۔
  • مدارس کے طلباء کے لیے “پری میڈیکل” طرز کے مختصر کورسز کا آغاز تاکہ وہ فنی اصطلاحات سے واقف ہو سکیں۔
  • حکومتی ایوانوں، نیشنل کونسل فار طب اور دیگر ریگولیٹری اداروں میں اطباء العلماء کی آواز بننا اور ان کے پیشہ ورانہ حقوق کا تحفظ یقینی بنانا۔

دعا ولسلام:حکیم مولانا سید عبدالوہاب شاہ

بانی و چیئرمین: جمعیت اطباء العلماء پاکستان

دوم: منشور

علمی وقار کی بحالی: ہم اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ طب کسی خاص سرٹیفکیٹ کی محتاج نہیں بلکہ “ذہنی استعداد” کی مرہونِ منت ہے۔ ہم علماء کے اس حق کو چھیننے نہیں دیں گے۔

تعلیمی پالیسی میں لچک: ہمارا منشور یہ ہے کہ اگر کوئی طالب علم درسِ نظامی کے 8 سال مکمل کر چکا ہے، تو اس کی علمی قابلیت ایک میٹرک پاس بچے سے کئی گنا بہتر ہے۔ لہٰذا، اسے طب کی تعلیم میں ترجیحی بنیادوں پر داخلہ ملنا چاہیے۔

میڈیکل اخلاقیات (Bioethics): ہسپتالوں اور کلینکس میں اسلامی اخلاقیات اور ہمدردی کے جذبے  کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے طبی خدمات کی فراہمی کو یقینی بنانا۔

حقوق کا تحفظ: کسی بھی حکومتی ایکٹ (جیسے مجوزہ ایف ایس سی شرط) میں علماء کے مفادات کا تحفظ کرنا اور ایسی ترامیم تجویز کرنا جن سے مدارس کے طلباء کے لیے راستے مسدود نہ ہوں۔

تربیتی ورکشاپس: طبیب علماء  کے لیے جدید طبی آلات اور قانون مفرد اعضاء (طب پاکستانی) کی خصوصی تربیتی و تعلیمی  نشستوں کا انعقاد کرنا۔

اول: تنظیمی مقاصد

اتحادِ اطباء العلماء: پاکستان بھر کے ان تمام اطباء کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنا جو دینی علوم (درسِ نظامی) کے فضلاء ہیں، تاکہ ایک بااثر اور منظم قوت پیدا کی جا سکے۔

تعلیمی اصلاحات و قانونی جدوجہد: نیشنل کونسل فار طب اور وزارتِ صحت سے یہ مطالبہ منوانا کہ “شہادۃ العالمیہ” کو طبیہ کالجز میں داخلے کے لیے میٹرک سائنس/ایف ایس سی کے مساوی (Equivalence) درجہ دیا جائے۔

تبدیلیِ اہلیت (Admission Policy Reform): اس تضاد کو ختم کرنا کہ پی ایچ ڈی اور ایم فل لیول کے حامل علماء محض میٹرک سائنس کی سرٹیفکیٹ نہ ہونے کی وجہ سے طب کی تعلیم سے محروم رہیں۔

تحقیق و علمی ہم آہنگی: طبِ قدیم اور جدید طبی پر شرعی و طبی نقطہ نظر سے مشترکہ تحقیق کرنا، اور ڈاکٹروں ، حکیموں کو علاج معالجے کے ضمن میں شرعی رہنمائی دینا۔

فروغِ طبِ پاکستانی: قانون مفرد اعضاء (طب پاکستانی) کو بطور سائنسی نظریہ مدارس اور جدید تعلیمی حلقوں میں متعارف کروانا اور اسے حکومتی سطح پر ایک مکمل سائنسی علاج کے طور پر منوانا۔

رکنیت کی دعوت ۔ فارم فل کریں

بسم اللہ الرحمن الرحیم

قابلِ صد احترام حکیم علماء کرام! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

الحمدللہ! علماء اور اطباء کی طاقت کو یکجا کرنے اور ان کے علمی و پیشہ ورانہ حقوق کے تحفظ کے لیے “جمعیت اطباء العلماء پاکستان” کا قیام عمل میں لایا جا چکا ہے۔

ہماری اس جدوجہد کا مقصد اطباء کی صفوں میں اتحاد پیدا کرنا، قانون مفرد اعضاء (طب پاکستانی) کو علمی بنیادوں پر فروغ دینا اور درسِ نظامی کی اسناد کو طبیہ کالجوں میں بطور اہلیت تسلیم کروانا ہے۔

آئیں! اس قافلے کا حصہ بنیں اور اپنی تفصیلات درج ذیل لنک پر کلک کر کے فارم میں درج کریں:

فارم کے لیے یہاں کلک کریں

آپ کی فراہم کردہ معلومات ہمارے پاس امانت ہوں گی اور ان کی بنیاد پر ضلعی و صوبائی سطح پر تنظیم سازی کی جائے گی۔

منجانب: حکیم مولانا سید عبدالوہاب شاہ بانی و چیئرمین: جمعیت اطباء العلماء پاکستان