
ایشر مول / زراوند
- November 6, 2024
- 0 Likes
- 1110 Views
- 0 Comments
ایشر مول
نام :
اردو میں ایشر، ہندی میں ، ایشر مول، یا سیزر مول، عربی،فارسی میں زراوند گرو، مراٹھی میں ساپ سن، گجراتی میں ارق مول یا نول بیل، بنگالی میں اشرمول، تیلگو میں گوبل ۔ مرہٹی میں ایشوری۔ سنسکرت میں ادرجتا کہتے ہیں۔

(تحریر و تحقیق: حکیم سید عبدالوہاب شاہ شیرازی)
نام انگلش:
Name: Indian Birthwort
Scientific name: Aristolochia tagala
Family: Aristolochiaceae; Juss
تاثیری نام: | مقام پیدائش: | مزاج طب یونانی: | مزاج طب پاکستانی: | نفع خاص: |
| مخرج بلغم، قاتل کرم شکم، مدر حیض | ہندوستان | گرم خشک | غدی عضلاتی |

تعارف:
ایشر مول ایک زہریلا پودا ہے۔ یہ جھاڑی کی شکل کا پودا ہوتا ہے جس کی ٹہنیاں بل کھائے ہوئے زمین پر بچھی ہوتی ہیں۔ اس کے پتے مختلف قسم کے ہوتے ہیں پھول چھوٹے چھوٹے گول ہوتے ہیں۔ ایشر مول کے بیج کچھ گولائی لئے ہوئے چپٹے ہوتے ہیں۔ اس کا ذائقہ کڑواہوتا ہے۔ طب یونانی میں بڑی کو زراوند دراز اور چھوٹی کو زراوند مدحرج کہتے ہیں۔ دونوں کی تاثیر لگ بھگ برابر ہے۔ رنگ باہر سے زرد، اندر سے سرخی مائل ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایرسہ
یہ بھی پڑھیں:اونٹ کٹارا
یہ بھی پڑھیں: انیسوں / ولائتی سونف

کیمیاوی و غذائی اجزا:
ایشر کا جزو اعظم ایک فراری تیل ہے۔ جس پر اس کی خاص قسم کی بو اور ذائقہ کا انحصار ہے۔ اس میں کھاری جو ہر ارسٹو لو کین، ارسٹین بھی پا یا جاتاہے۔
ایشر مول میں غذائی اجزاء یا وٹامنز نہیں ہوتے البتہ چند بائیو ایکٹو مرکبات ہوتے ہیں جو کہ مندرجہ ذیل ہیں:
الکالوئڈز
ارسٹولیکٹم بی ٹو (Aristolactam BII) ارسٹولیکٹم ٹو (Aristolactam II) سارسٹولیکٹم (Sauristolactam)
ارسٹولیکٹم ون (Aristolactam I) سیون میتھوکسی ارسٹولیکٹم فور (7-Methoxyaristolactam IV)
ارسٹولیکٹم اے ٹو (Aristolactam AII) ارسٹولیکٹم این بیٹا ڈی گلوکوسائیڈ (Aristolactam N-β-D-glucoside)
سیفارانون اے این بیٹا ڈی گلوکوسائیڈ (Cepharanone A N-β-D-glucoside)

ارسٹولوشک ایسڈز
ارسٹولوشک ایسڈ ون (Aristolochic Acid I) ارسٹولوشک ایسڈ کے تمام مشتقات (Aristolochic Acid Derivatives)
یہ دونوں اجزا انتہائی زہریلے اثرات رکھتے ہیں، گردوں کو نقصان اور کینسر کا باعث بنتے ہیں۔
فینولک اور فلاونوئڈ مرکبات
کیمفرول (Kaempferol) جینٹیسک ایسڈ (Gentisic Acid) پائروگیلول (Pyrogallol) کیٹیچول (Catechol)
اورسینول (Orcinol) ٹو میتھل ریزورسنول (2-Methyl Resorcinol)
دیگر نباتاتی مرکبات
بیٹا سائیٹو سٹیرول (Beta Sitosterol) سٹیگماسٹیرول (Stigmasterol)
تمام ٹرپین اور سسکیوٹرپین مشتقات (Terpenes and Sesquiterpenes)
تمام پودوں کے گلیکوسائیڈز (Plant Glycosides)
قدرتی شکر کے اجزا
ربوز (Ribose) رامنوز (Rhamnose) گلیکٹوز (Galactose) گلوکوز (Glucose)

اثرات:
غدد میں تحریک عضلات میں تحلیل اور اعصاب میں تسکین پیدا کرتا ہے۔

خواص و فوائد
ایشر مول جدید تحقیقات کے مطابق زہریلے اثرات رکھتا ہے اس لیے اس کے خوردنی استعمال سے پرہیز کرنا ہی بہتر ہے، برطانیہ، جرمنی، امریکہ، کینیڈا اور آسٹریلیا سمیت کئی ممالک میں اس پودے کے مشتقات یعنی اس سے بنی ہوئی مرکبات پر پابندی لگا دی ہے۔ البتہ قدیم کتب میں اس کے جو فوائد لکھے ہیں ان کے مطابق یہ پیشاب کی رکاوٹ ، حیض کی رکاوٹ کے لئے مفیدہے۔ اسی لئے حاملہ کے لئے اس کا استعمال سخت منع ہے کیونکہ اس سے حمل گر جاتا ہے۔ بلغم دور کرنے، پیٹ کے سدے کھولنے اور پیٹ کے کیڑے نکالنے کے لئے مفید ہے۔ ہندوستان کے متعدد علاقوں میں اس بوٹی کے پتوں کا رس مارگزیدہ کے تریاق کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے اور اس کی جڑ بطور محرک و مقوی، امراض دل و سینہ استعمال کر رہے ہیں۔

ایشر مول سے سانپ کاٹے کا علاج
بعض کتب میں ایشر مول کو سانپ کے کاٹے کا علاج لکھا گیا ہے، اس حوالے سے یاد رکھنا چاہیے سانپ کے زہر تین بنیادی اقسام میں تقسیم کیے جاتے ہیں زہروں کا مزاج اور تحریک بھی ہوتی ہے۔
یاد رکھیں آج کل سرکاری ہسپتالوں میں سانپ کے کاٹے کی ویکسین دستیاب ہوتی ہے، جو تقریبا یقینی علاج اور زہر کا تریاق ہوتی ہے، اگر کسی کو سانپ کاٹ لے تو جتنا جلدی ہو سکے پہلی ترجیح کے طور پر قریبی سرکاری ہسپتال سے ویکسین لگوائیں، جڑی بوٹیوں سے ازخود علاج کرنے سے گریز کریں، ہاں جہاں مجبوری ہو، ویکسین دستیاب نہ ہو تو ایسی صورت میں آپ از خود علاج کرسکتے ہیں، کیونکہ کچھ نہ کرنے سے کچھ کرنا بہتر ہے۔
مفردات کی اکثر کتابوں میں کئی چیزوں کے بارے لکھا ہوا ہوتا ہے کہ یہ جڑی بوٹی سانپ کے زہر کا تریاق ہے۔ ہمیں اس حوالے سے تھوڑا غور کرنے کی ضرور ہے کہ ہم دیکھیں جڑی بوٹی کے اثرات کیا ہیں اور جس سانپ نے کاٹا ہے اس کے زہر کے اثرات کیا ہیں، یہ معلوم کرنے کے بعد ہی ہم کہہ سکتے ہیں کہ فلاں بوٹی فلاں سانپ کے زہر کا تریاق ہے۔ ایک ہی جڑی بوٹی ہر سانپ کے زہر کا تریاق نہیں ہو سکتی بلکہ ہلاکت خیز ثابت ہو سکتی ہے۔ سانپ کے زہر تین بنیادی اقسام میں تقسیم کیے جاتے ہیں:
1۔ نیروٹاکسن (Neurotoxic venom): اعصابی تحریک
یہ اعصابی نظام پر اثر انداز ہوتا ہے، دماغ اور اعصاب کے درمیان رابطے کو متاثر کرتا ہے، جس سے فالج، سانس رک جانا یا موت واقع ہو سکتی ہے۔ یعنی یہ زہر جسم میں انتہائی اعصابی تحریک پیدا کرتا ہے۔
2۔ہیماٹاکسن (Hemotoxic venom): عضلاتی تحریک
یہ خون کو متاثر کرتا ہے، خون کو جمانے، توڑنے، یا رگوں کو پھاڑنے کا سبب بنتا ہے، جس سے خون بہنا، اعضا ناکارہ ہونا، یا موت واقع ہو سکتی ہے۔ یعنی یہ زہر جسم میں انتہائی عضلاتی تحریک پیدا کرتا ہے۔
3۔ سائٹوٹاکسن (Cytotoxic venom): غدی تحریک
یہ خلیات کو تباہ کرتا ہے، جس سے ٹشوز (بافتیں) سڑنے لگتی ہیں، اور مقامی سوجن، درد اور ناسور پیدا ہو سکتے ہیں۔ یعنی یہ زہر جسم میں انتہائی غدی تحریک پیدا کرتا ہے۔
اس سے معلوم ہوا چونکہ ایشر مول غدی عضلاتی اثرات رکھتی ہے لہذا یہ ہیماٹاکسن زہر والے سانپ کے کاٹے میں تو مفید ہے لیکن سائٹو ٹاکسن زہر والے سانپ کے کاٹے میں فائدے کے بجائے الٹا نقصان ہوگا۔

جدید سائنسی تحقیقات
ایشر مول میں موجود کیمیاوی اجزا، جیسے فلاونوئڈز، فینیولز، ٹرپینز اور گلیکوسائیڈز، جدید سائنسی مطالعات کے مطابق کچھ طبی فوائد رکھتے ہیں۔ اس کے پتوں اور جڑ کے عصاروں میں اینٹی آکسیڈنٹ خصوصیات دیکھی گئی ہیں، جو خلیات کو آکسیڈیٹو تناؤ سے بچاتے ہیں اور آزاد ریڈیکلز کو کم کرتے ہیں۔ کچھ تحقیق میں اس کی سوزش اور درد کم کرنے والی خصوصیات بھی ظاہر ہوئی ہیں، یعنی جسمانی سوجن اور درد میں کچھ حد تک کمی کی جا سکتی ہے۔ مزید برآں، حیوانی اور تجربہ گاہی مطالعات میں اس کے کچھ مرکبات نے کینسر کے خلیات میں خود کشی (apoptosis) کو بڑھانے کے آثار دکھائے ہیں، اور ابتدائی طور پر اعصابی تحفظ کے اثرات بھی دیکھے گئے ہیں، جو یادداشت یا اعصابی نقصان میں ممکنہ مددگار ہو سکتے ہیں۔
تاہم سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس میں موجود ارسٹولوشک ایسڈ گردوں کے لیے شدید زہریلے اور سرطان پیدا کرنے والے ہیں، یہ مثانے کے کینسر اور پیشاب کی نالی کے دیگر کینسر کے خطرے کو بھی بہت زیادہ بڑھاتا ہے، جس کی وجہ سے انسانی استعمال کے لیے یہ خطرناک ہو سکتا ہے۔ اس لیے اگرچہ ایشر مول کے کچھ فوائد تجرباتی مطالعات میں دیکھے گئے ہیں، انسانی صحت کے لیے محفوظ استعمال کی تصدیق موجود نہیں اور استعمال میں انتہائی محتاط رہنا ضروری ہے۔
حوالہ جات: (پی ایم سی)۔ (پب میڈ)۔ (Rsis International)۔ (این آئی ایچ)۔
مقدار خوراک:
آدھا گرام سے ایک گرام
Discover more from TabeebPedia
Subscribe to get the latest posts sent to your email.


Leave a Reply