Emergency Help! +92 347 0005578
Advanced
Search
  1. Home
  2. انکول
انکول

انکول

  • October 31, 2024
  • 0 Likes
  • 855 Views
  • 0 Comments

انکول

نام :

ہندی میں اکولہ۔ بنگالی میں اکرکنٹہ۔ گجراتی میں اونکلہ۔ سنسکرت میں انگولا کہتے ہیں۔

Hakeem Syed Abdulwahab Shah Sherazi

(تحریر و تحقیق: حکیم مولانا سید عبدالوہاب شاہ شیرازی)

نام انگلش:

Name: Ankol

Scientific name: Alangium salviifolium

Family: Alangium

تاثیری نام:
مقام پیدائش:
مزاج  طب یونانی: 
مزاج  طب پاکستانی: 
نفع خاص:
مقئی، ملینہندوستانگرم تر درجہ دومغدی اعصابیعضلاتی و غدی امراض میں

تعارف:

انکول  ایک درخت ہے جس کی ٹہنیاں عام درختوں کی طرح پھیل کر ایک بڑے درخت کی شکل اختیار کر لیتی ہیں۔  یہ درخت پچیس فٹ سے پچاس  فٹ تک اونچا ہوتا ہے اورتنے کی گولائی تقریبا ًتین فٹ تک ہوتی ہے۔ اس کی ٹہنیاں  سفید رنگت  کی ہوتی ہیں۔ اوران پرکوئی کانٹا وغیرہ نہیں ہوتا۔ البتہ جہاں درخت کی ٹہنیوں پر پتے نکلتے ہیں وہاں سوئی کی مانند چھوٹے چھوٹے کانٹے پیدا ہو جاتے ہیں۔ اس کی جڑیں کوئی خاص پھیلاؤ میں نہیں ہوتیں اور نہ ہی عام درختوں کی جڑوں کی طرح ان کا گچھا سا ہوتا ہے۔ بلکہ ایک لمبی سی جڑ ہوتی ہے جو زمین کے نیچے تھوڑی دور تک پہنچتی ہے. اس جڑ کے ساتھ دو چار شاخیں ہوتی ہیں لیکن جب درخت جوان ہو جاتا ہے تو پھر اس کی جڑیں بڑھتی ہیں اور زمین میں کافی گہرائی تک چلی جاتی ہیں. اس کی جڑ کافی وزنی ہوتی ہے. یہ جڑیں شاخوں کی شکل میں زمین کے اندر ٹیڑھی سیدھی ہو کر پھیلتی ہیں اور مقدار میں بہت کم ہوتی ہیں۔

انکول Ankol
انکول Ankol

انکول  کا پھل ریٹھے  یا جنگلی بیر کی طرح ہوتا ہے۔ اس کے پھل کی گولائی ڈیڑھ انچ سے کم ہوتی ہے۔ پھل چکنااور گول ہوتا ہے۔ یہ پھل بیساکھ سے لے کر ساون تک لگتے اور پکتے ہیں۔  جب پھل پکتے ہیں تو ان کی رنگت سبز ہوتی ہے اور پھل کے اوپر کی چھال پر عموماً دھاریاں ہوتی ہیں۔ پھل کا ذائقہ کسیلا اور چریرا سا ہوتا ہے۔ پھل کی کھال چمکدار ہوتی ہے اور اس پر لیس دار رطوبت پائی جاتی ہے۔ پھل کی پیشانی پر ناریل کی طرح سوراخ ہوتا ہے۔ کچے پھل کی رنگت جامنی رنگ کی ہوتی ہے اور اس کی پیشانی سخت اور خشک ہوتی ہے۔ مغز کی چھال نہایت ملائم ہوتی ہے۔ اگر مغز کو ذرا سا دبا دیا جائے تو اس میں سے کانجی کی مانند لعاب سا نکلتا ہے۔اس لعاب  کی خوشبومن وعن مچھلی کی سی ہوتی ہے۔ ذائقہ میں لذیذ اور شیریں ہوتا ہے اور اگر یہ پھل نیم پکا کر کھایا جائے تو اس میں ترشی اور کسیلا پن ہوتا ہے۔

انکول Ankol
انکول Ankol

انکول اپنے اندر  عجیب و غریب طبی خواص اور قدرتی معجزات لئے ہوئے ہے۔لفظ’’ انکول‘‘آنکلا سے نکلا ہے جس کے معنی ہیں حیران کرنے والا۔ لہٰذا اس بوٹی کے طبی خواص انسانی عقل و دانش پر اپنے حیران کن تاثرات چھوڑ کر معجزہ قدرت دکھاتے ہیں۔کئی مداری لوگوں کے سامنے آم کی سوکھی گٹھلی پر پانی چھڑکتے ہیں تو اس میں سے فورا آم کا پودا نمودار ہوتا ہے۔ اسی طرح اپنی ہتھیلی پر سرسوں کے تیل کو جما دیتے ہیں، یہ سارے کرتب اسی انکول کی بدولت کیے جاتے ہیں۔ یہ بازیگر یا مداری لوگ انکول  کے بیجوں کے تیل میں آم کی سوختہ گٹھلی یا سرسوں کے خشک دانے ترکرکے اپنے پاس رکھتے ہیں اورضرورت کے وقت مجمع میں تماشا دیکھنے والوں کے سامنے  پانی کے چھینٹوں سے تر کر کے پلک جھپکتے ہی ایک لہلہاتا پودا نمودار کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔

انکول Ankol
انکول Ankol

یہ بھی پڑھیں: انزروت

یہ بھی پڑھیں:انڈہ مرغی

یہ بھی پڑھیں: اندرائن، تمہ، حنظل

کیمیاوی و غذائی  اجزا:

1. فلیووونوئڈز (Flavonoids)

کوئرسیٹن (Quercetin)     کیمپفرول (Kaempferol)               مائیریسیٹین (Myricetin) لوٹیولین (Luteolin)

2. الکالوئڈز (Alkaloids)

الانگین (Alangine)         آئسو الانگین (Isoalangine)            این-میتھائل الانگین (N-methylalangine)

3. سَپونِنز (Saponins)

سائیکلوآرٹین ٹائپ ساپونِنز (Cycloartane-type Saponins)

گلیکوسائیڈک ساپونِنز (Glycosidic Saponins)

  1. ٹیننز (Tannins)

گیلوٹیننز (Gallotannins)              ایلاجیٹیننز (Ellagitannins)

5. ٹیرپینوئڈز (Terpenoids)

α‑پینین (α-Pinene)      β‑پینین (β-Pinene)      Limonene

6. سٹیرولز (Sterols)

بیٹا-سائٹوسٹیرول (β‑Sitosterol)   کیمپیسٹیرول (Campesterol)       اسٹگماسٹیرول (Stigmasterol)

7. فیٹی ایسڈز (Fatty Acids)

لینولینک ایسڈ (Linoleic Acid)      اولِک ایسڈ (Oleic Acid) Palmitic Acid

8. کلوروفل (Chlorophyll)

کلوروفل اے (Chlorophyll a)    کلوروفل بی (Chlorophyll b)

9. فینولِک کمپاؤنڈز (Phenolic Compounds)

گیلیک ایسڈ (Gallic Acid)              کافیئیک ایسڈ (Caffeic Acid)        فیروولِک ایسڈ (Ferulic Acid)

10. کاربوہائیڈریٹس (Carbohydrates)

گلوکوز (Glucose)              فریکٹوز (Fructose)           ساکھاروز (Sucrose)

حوالہ جات: پب میڈ۔  این آئی ایچ۔  نیشنل لائبریری آف میڈیسن۔ 

انکول Ankol
انکول Ankol

اثرات:

غدد میں تحریک، عضلات میں تحلیل اور اعصاب میں تقویت پیدا کرتی ہے۔ انکول کی جڑ کی چھال مقئی ‘معرق‘دافع بخار‘ملین ‘قاتل کرم شکم  ہے۔

خواص و فوائد

جڑ کی چھال مقئی یعنی الٹی لاتی ہے۔انکول یا اکولہ معرق‘دافع بخار‘ملین ‘پیٹ کے کیڑوں کو مارتی  اور مقوی دل ہے۔ریاح اوربلغم کے فساد کودفع کرتی ہے۔اس کے پتوں کا رس یا جڑ کو گھس کر ان ورموں پر جو جانوروں کے کاٹنے سے ہوں مفید ہے۔جڑ کی چھال ہمراہ مرچ سیاہ کےسفوف بناکر پھانکنا جذام آتشک اور جلدی امراض میں مفید ہے۔اس درخت کا پھل مقوی اور مبرد ہے ۔اس کو جریان خون، سل ودق اور جسم کی جلن کیلئے  فائدہ مند ہے۔اس کے بیجوں سے تیل نکالا جاتا ہے۔جو جلانے کے کام آتا ہے۔اس کے پتوں کو بطور پلٹس استعمال کرتے ہیں۔ اینٹی مائکروبیل ہے یعنی  جراثیم کا مقابلہ کرتا ہے۔

اینٹی وینم ہے یعنی  سانپ کے کاٹنے کا علاج کرتا ہے۔کہا جاتا ہے کہ اس کی لکڑی یا پتوں کو اپنے پاس رکھ کر سوئیں تو سانپ، بچھو اور زہریلے جانور قریب نہیں آتے۔ مفردات کی اکثر کتابوں میں کئی چیزوں کے بارے لکھا ہوا ہوتا ہے کہ یہ جڑی بوٹی سانپ کے زہر کا تریاق ہے۔ ہمیں اس حوالے سے تھوڑا غور کرنے کی ضرور ہے کہ ہم دیکھیں جڑی بوٹی کے اثرات کیا ہیں اور جس سانپ نے کاٹا ہے اس کے زہر کے اثرات کیا ہیں، یہ معلوم کرنے کے بعد ہی ہم کہہ سکتے ہیں کہ فلاں بوٹی فلاں سانپ کے زہر کا تریاق ہے۔ ایک ہی جڑی بوٹی ہر سانپ کے زہر کا تریاق نہیں ہو سکتی بلکہ ہلاکت خیز ثابت ہو سکتی ہے۔ سانپ کے زہر تین بنیادی اقسام میں تقسیم کیے جاتے ہیں:
1۔ نیروٹاکسن (Neurotoxic venom): یہ اعصابی نظام پر اثر انداز ہوتا ہے، دماغ اور اعصاب کے درمیان رابطے کو متاثر کرتا ہے، جس سے فالج، سانس رک جانا یا موت واقع ہو سکتی ہے۔
2۔ سائٹوٹاکسن (Cytotoxic venom):یہ عضلاتی نظام پر حملہ آوار ہوتا ہے، خلیات کو تباہ کرتا ہے، جس سے ٹشوز (بافتیں) سڑنے لگتی ہیں، اور مقامی سوجن، درد اور ناسور پیدا ہو سکتے ہیں۔
3۔ ہیماٹاکسن (Hemotoxic venom):یہ غدی نظام پر حملہ آور ہوتا ہے خون کو متاثر کرتا ہے، خون کو جمانے، توڑنے، یا رگوں کو پھاڑنے کا سبب بنتا ہے، جس سے خون بہنا، اعضا ناکارہ ہونا، یا موت واقع ہو سکتی ہے۔اس اعتبار سے یہ سائٹو ٹاکسن زہر رکھنے والے سانپوں کا تریاق ہو سکتا ہے۔

ایک سائنسی ریسرچ (گیٹ ریسرچ) کے مطابق: انکول ایک طاقتور اینٹی سوزش والی جڑی بوٹی کے طور پر کام کرتا ہے جو جگر میں سوزش کو کم کرنے میں مدد کرتا ہے۔ جب کہ اس کا antimicrobial عمل جگر کے انفیکشن سے لڑتا ہے اور بلیروبن کی سطح کو کنٹرول میں رکھتا ہے۔ اس طرح اس جڑی بوٹی کی دوا کو تجویز کردہ خوراک میں لینے سے یرقان اور جگر کے دیگر مسائل کے علاج میں مدد ملتی ہے۔

انکول کی جڑ کی چھال کا عرق چاول کے پانی کے ساتھ ملا کر اسہال کے علاج کے لیے دیا جاتا ہے۔ اس مرکب کو پینے سے چڑچڑاپن آنتوں کے سنڈروم میں مبتلا افراد میں ڈھیلے پاخانہ کی تعدد کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔ اس کے علاوہ، اس جڑی بوٹی کی antimicrobial خصوصیت آنتوں میں نقصان دہ پیتھوجینز کو مارنے میں مدد کرتی ہے اور ہاضمہ کی صحت کو برقرار رکھتی ہے۔

انکول کے جڑ کے عرق کو کیمیکل کمپاؤنڈ سالویفوسائیڈز (salvifosides)کی موجودگی کی وجہ سے سوزش اور اینالجیسک (analgesic) خصوصیات کا سہرا دیا جاتا ہے۔ اس سے جوڑوں میں درد اور سوجن کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔ جب کہ تنے کی چھال اینٹی آرتھرٹک (anti-arthritic)  ایکشن دکھاتی ہے جو گنٹھیا سے متعلق علامات کو روکتی ہے۔

اس کے بیج اینٹی ذیابیطس، اینٹی مائکروبیل انسداد کینسر سے بچاؤ، اینٹی مرگی، اینٹی سوزش خصوصیات کے حامل ہیں۔چنانچہ ایتھلیٹ  کھلاڑی طاقت اور برداشت پیدا کرنے کے لیے انکول کے بیج کا استعمال کرتے ہیں۔ یہ بیج ہاضمہ کے مسائل اور آنتوں کے درد کے علاج کے لیےبھی  استعمال ہوتا ہے۔

انکول کے بیجوں کا تیل ایک مضبوط ینالجیسک کے طور پر کام کرتا ہے اور درد کو دور کرتا ہے۔ بھارت میں پھوڑے، خارش کا روایتی طور پر بیج کے تیل سے علاج کیا جاتا ہے۔ یہ جلد کی متعدد خرابیوں کو دور کرتا ہے  ۔ یہ بالوں کی نشوونما اور حجم کو فروغ دیتا ہے ۔

زیادہ مقدار میں کھانے کی صورت میں قے کا باعث بن سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، حمل اور دودھ پلانے کے وقت اس کی حفاظت کے لئے کافی ثبوت نہیں ہیں،  اس لیے حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین کو انکول سے مکمل طور پر پرہیز کرنا چاہیے۔

انکول Ankol
انکول Ankol

جدید سائنسی تحقیقات

  1. درد میں آرام

Ankol کے پتے، جڑ اور بیج میں موجود سَپونِنز اور الکالوئڈز جسم کے درد، خاص طور پر جوڑوں اور پٹھوں کے درد کو کم کرنے میں مددگار ہیں۔ اس میں موجود فلیووونوئڈز اور فینولِک کمپاؤنڈز جسم میں سوزش (inflammation) کو کم کرنے میں کارآمد ہیں، جو جوڑوں یا دیگر سوزش زدہ حصوں کے درد میں فائدہ پہنچاتے ہیں۔

  1. اینٹی مائیکروبیل اثرات

تحقیقی مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ Ankol کے استخراج (extracts) کچھ بیکٹیریا اور فنگس کے خلاف سرگرم ہیں، اس لیے انفیکشن کے خطرے کو کم کرنے میں مددگار ہیں۔ پولِسَکریڈز اور سَپونِنز مدافعتی نظام کو مضبوط کرتے ہیں، جس سے جسم بیماریوں کے خلاف بہتر ردعمل دے سکتا ہے۔ روایتی طور پر Ankol کی پاؤڈر یا پیسٹ جِلْدی زخم اور خراش پر لگائی جاتی ہے تاکہ سوزش کم ہو اور زخم جلد بھر جائے۔

انکول کے جڑ کے عرق کو کیمیکل کمپاؤنڈ سالویفوسائیڈز (salvifosides)کی موجودگی کی وجہ سے سوزش اور اینالجیسک (analgesic) خصوصیات کا سہرا دیا جاتا ہے۔ اس سے جوڑوں میں درد اور سوجن کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔ جب کہ تنے کی چھال اینٹی آرتھرٹک (anti-arthritic)  ایکشن دکھاتی ہے جو گنٹھیا سے متعلق علامات کو روکتی ہے۔

اس کے بیج اینٹی ذیابیطس، اینٹی مائکروبیل انسداد کینسر سے بچاؤ، اینٹی مرگی، اینٹی سوزش خصوصیات کے حامل ہیں۔چنانچہ ایتھلیٹ  کھلاڑی طاقت اور برداشت پیدا کرنے کے لیے انکول کے بیج کا استعمال کرتے ہیں۔ یہ بیج ہاضمہ کے مسائل اور آنتوں کے درد کے علاج کے لیےبھی  استعمال ہوتا ہے۔

انکول کے بیجوں کا تیل ایک مضبوط ینالجیسک کے طور پر کام کرتا ہے اور درد کو دور کرتا ہے۔ بھارت میں پھوڑے، خارش کا روایتی طور پر بیج کے تیل سے علاج کیا جاتا ہے۔ یہ جلد کی متعدد خرابیوں کو دور کرتا ہے  ۔ یہ بالوں کی نشوونما اور حجم کو فروغ دیتا ہے ۔

زیادہ مقدار میں کھانے کی صورت میں قے کا باعث بن سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، حمل اور دودھ پلانے کے وقت اس کی حفاظت کے لئے کافی ثبوت نہیں ہیں،  اس لیے حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین کو انکول سے مکمل طور پر پرہیز کرنا چاہیے۔

حوالہ جات: نیشنل لائبریری آف میڈیسن۔  پب میڈ۔  این آئی ایچ۔ 

مقدار خوراک:

جڑ کی چھال کا پاوڈر آدھاگرام۔ تین گرام کھانے سے الٹی آتی ہے۔

Important Note

اعلان دستبرداری
اس مضمون کے مندرجات کا مقصد عام صحت کے مسائل کے بارے میں بیداری پیدا کرنا ہے ، لہذا اسے آپ کی مخصوص حالت کے لیے مناسب طبی مشورے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ اس مضمون کا مقصد جڑی بوٹیوں اور کھانوں کے بارے میں تحقیق پر مبنی سائنسی معلومات کو شیئر کرنا ہے۔ آپ کو اس مضمون میں بیان کردہ کسی بھی تجویز پر عمل کرنے یا اس مضمون کے مندرجات کی بنیاد پر علاج کے کسی پروٹوکول کو اپنانے سے پہلے ہمیشہ لائسنس یافتہ میڈیکل پریکٹیشنر سے مشورہ کرنا چاہیے۔ ہمیشہ لائسنس یافتہ، تجربہ کار ڈاکٹر اور حکیم سے علاج اور مشورہ لیں۔


Discover more from TabeebPedia

Subscribe to get the latest posts sent to your email.

Leave a Reply

Discover more from TabeebPedia

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading