
انجبار
نام :
اردو،فارسی میں انجبار۔ عربی میں انجبار مخزنی کہتے ہیں۔

(تحریر و تحقیق: حکیم مولانا سید عبدالوہاب شاہ شیرازی)
نام انگلش:
Name: Bistort / Himalayan Fleeceflower
Scientific name: Bistorta officinalis
Family: Polygonaceae
تاثیری نام: | مقام پیدائش: | مزاج طب یونانی: | مزاج طب پاکستانی: | نفع خاص: |
| قابض، حابس | نمناک جگہوں پر ہندوستان میں کشمیر، ہمالیہ اور ملک شام | خشک سرد | عضلاتی اعصابی | اسہال میں مفید ہے۔ |

تعارف:
انجبار Bistortایک پودے کی جڑ ہے جوسرخ سیای مائل کھر دری اور انگلی کے بقد رموٹی ہوتی ہے۔ انجبار کا مزہ کسیلاکسی قدر پھیکا ہوتا ہے ، انجبار کا پودا دو سے تین فٹ اونچا ہوتا ہے ، جبکہ مصر شام وغیرہ میں اس پودے کی لمبائی پانچ سے چھ فٹ ہوتی ہے۔ اس کی شاخیں چاروں طرف پھیلی ہوتی ہیں ۔گول دھاری والا جس میں بہت گانٹھیں ہوتی ہیں۔ان گانٹھوں پر پتے ہوتے ہیں۔

پتے ڈنٹھل دار گول ایک انچ لمبے اور گول اور برچھی کی طرح لمبے ہوتے ہیں۔اور برچھی کی طرح نوک دار اور کنگرے دار کنارے پرسخت درمیان میں ملائم چکنے اور مٹیالے نیلا ہٹ لئے ہوئے گائے کی دم کی طرح ہوتے ہیں۔پھول چھوٹے چھوٹے تکونے ،سرخ رنگ کے جس میں سفید دھبے چھتری دارنظر آتے ہیں۔تخم تکوں دار کالے رنگ کے چھوٹے چھوٹے ہوتے ہیں۔جڑگہرائی میں ہوتی ہے جوکہ کھردری سرخ مائل بہ سیاہ ہوتی ہے۔جوکہ بطوردواءمستعمل ہے۔

یہ بھی پڑھیں: انت مول
یہ بھی پڑھیں: بے اولادی، نفسیاتی مریض اور نسیان
یہ بھی پڑھیں: انار شیریں

کیمیاوی و غذائی اجزا:
1. فینیولک ایسڈز
گلیک ایسڈ، کلورو جنک ایسڈ، پروٹوکٹیچوک ایسڈ، ونیلیک ایسڈ، سریجک ایسڈ، پائروگلیکول، کٹی کول۔
2. فلاونوئڈز
کوئرسیٹن، لوٹیولن، اپی جینین، کیمپفرول، میریسیٹِن، ریوٹِن، ہائپرین، آئسو کیورسیکٹوائن، اینتھوسیانائنز (سیانڈین، ڈیلفینیڈین)۔
3. ٹرائٹیرپینائڈز اور سٹیرولز
Friedelin، 3-β‑friedelinol، β‑سِٹو سٹیرول، γ‑سِٹو سٹیرول، β‑سِٹو سٹیرون،۔

. ٹیننز
bistortaside A، 1‑galloyl-β-D-glucose، Castalagin، Proanthocyanidin
5. کومارينز
Umbelliferone، Scopoletin۔
6. پالی سَکارائیڈز
جڑوں میں پولی سَکارائیڈز
7. فیٹی ایسڈز
Palmitic acid، Myristic acid، Linoleic acid
8. والٹیائل کمپاؤنڈز / ضروری تیل
Tricosane، Hexacosane، Hexadecanoic acid، Heneicosane، Lavandulol۔
حوالہ جات:
PubMed: 38697228۔ PubMed: 16864439۔

معدنیات
کیلشیم:مقدار: تقریباً 50 ملی گرام پوٹاشیم:مقدار: تقریباً 400 ملی گرام لوہا:مقدار: تقریباً 2 ملی گرام
میگنیشیم:مقدار: تقریباً 30 ملی گرام فاسفورس:مقدار: تقریباً 40 ملی گرام زنک:مقدار: تقریباً 0.5 ملی گرام
وٹامنز
وٹامن سی:مقدار: تقریباً 10 ملی گرام وٹامن اے: معمولی مقدار میں۔
اثرات:
قابض، حابس الدم، مقوی معده وامعاء، مقوی عضلات، مسکن صفراء، مسکن حدت دم، مغلظ رطوبات۔

خواص و فوائد
انجبار Bistort قابض ہونے کی وجہ سے پرانے دستوں کے لیے نہایت مفید ہے اور اس کا قبض کسی قسم کی تکلیف دینے والا نہیں ہے اور چونکہ قابض ہونے کے ساتھ ہی حابس و نزف الدم بھی ہے لہذا جملہ اعضاء کے خون کو بند کرنے کے لیے کثیر الاستعمال اور کثیر المنافع دوا ہے۔
انجبار اسہال دموی، بول الدم میں بکثرت مستعمل ہے۔ انجبار مرض سل کے لیے بھی مفید ہے۔ قابض ہونے کی وجہ سے (موچ) عضلات کے کچل جانے اور ان کے ٹوٹ پھوٹ وغیرہ میں ضمادانافع ہے ۔مسکن صفراء ہونے کی وجہ سے قے اور متلی کو بھی روکتی ہے اورجراحات سے خون روکنے کے لیے مفید ہے۔

جدید سائنسی تحقیقات
انجبار کی جڑیں اور پتّے روایتی اور جدید تحقیق دونوں کے مطابق کئی طبی فوائد رکھتی ہیں۔ اس میں موجود ٹیننز، فلاونوئڈز، فینیولک ایسڈز، ٹرائٹیرپینائڈز اور سٹیرولز مختلف بیماریوں میں مفید ثابت ہوتے ہیں۔
انجبار میں ٹیننز خون کو جمانے میں مدد کرتے ہیں اور چھوٹے زخموں اور خراشوں کے لیے روایتی طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ اس میں موجود فلاونوئڈز اور کومارينز میں اینٹی سوزشی اثرات پائے جاتے ہیں۔ یہ معدے، جلد اور دیگر بافتوں میں سوزش کم کرنے میں مددگار ہوتے ہیں۔ انجبار میں موجود اینتھوسیانائنز، کوئرسیٹن اور دیگر فلاونوئڈز آزاد ریڈیکلز کو ختم کر کے خلیات کو نقصان سے بچاتے ہیں، جس سے عمر رسیدگی کی رفتار سست ہوتی ہے۔
حوالہ جات: Sibran: Bistorta chemical composition۔ PubMed: 24082326۔
مقدار خوراک:
تین سے پانچ گرام
Discover more from TabeebPedia
Subscribe to get the latest posts sent to your email.


Leave a Reply