
ایرسہ
نام :
فارسی میں زنبق۔ ہندی میں اندردھنش ،پشپی سوسن साइबेरियन आइरिस ۔

(تحریر و تحقیق: حکیم مولانا سید عبدالوہاب شاہ شیرازی)
نام انگلش:
Name: Siberian iris
Scientific name: Iris sibirica
Family: Iridaceae
تاثیری نام: | مقام پیدائش: | مزاج طب یونانی: | مزاج طب پاکستانی: | نفع خاص: |
| معطس، مسخن، دافع سموم، جالی | کشمیر، افغانستان، ایران | گرم خشک درجہ دوم | غدی عضلاتی | دافع سموم یعنی زہروں کو دفع کرتا ہے۔ |

تعارف:
ایرسا کے پھول نیلے، زرد، سفید ہوتے ہیں ۔ اس کا بازاری نام’’ جڑ بنفشہ‘‘ہے جو درست نہیں ہے لیکن اس سے بنفشہ کی طرح خوشبو آتی ہے۔ایرساکی جڑ گرہ دار، لمبی، چپٹی اور سخت ہوتی ہے اور خوشبودار بھی ہوتی ہے۔ جسے پرفیومری میں استعمال کیا جاتا ہے۔ ایرسا کے درمیان سے ایک سیدھی شاخ نکلتی ہے جس کے آخری سرے پر پھول ہوتا ہے۔ بیرونی چھلکا نیلا سرخ اور اندر سے سفید یا زرد سرخی مائل ہوتا ہے۔ایرسا پھول مختلف رنگوں کو لئے ہوتا ہے جیسے قوس قزح ہوتی ہے۔ اس کے پھول کی پنکھڑیوں پر علاوہ مختلف رنگوں کے عام طور پر چھوٹے چھوٹے نقطوں کی قطاریں بھی ہوتی ہیں۔اس کی جڑ چبانے سے کڑوی معلوم ہوتی ہے اور زبان کو کاٹتی چھیلتی ہے۔ اس کی خشک جڑ کو جب ہاون دستہ میں کوٹا جاتا ہے تو اس کی خوشبو ناک میں جاکر خراش پیدا کرکے چھینکیں لاتی ہے۔بطور دوا اس کی جڑ استعمال ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:اونٹ کٹارا
یہ بھی پڑھیں: انیسوں / ولائتی سونف
یہ بھی پڑھیں: اننت مول

کیمیاوی و غذائی اجزا:
Phenolic / Flavonoid / Isoflavonoid مرکبات
گیلیک ایسڈ (Gallic acid) کوئومارک ایسڈ (Coumaric acid) سیننامک ایسڈ (Cinnamic acid)
کلورو جینک ایسڈ (Chlorogenic acid) نیو-کلورو جینک ایسڈ (Neochlorogenic acid)
فیروئِک ایسڈ (Ferulic acid) کیفِک ایسڈ (Caffeic acid) کا ایمپفیرول (Kaempferol)
کوئرسیٹن (Quercetin) Isoflavonoids / flavonoid glycosides
فیٹی ایسڈز (Fatty Acids)
پالمیٹک ایسڈ (Palmitic acid) لینولک ایسڈ (Linoleic acid)
α-لِنولینک ایسڈ (Alpha‑linolenic acid)
حوالہ جات: (پب میڈ)۔ (این آئی ایچ)۔ (این ایل ایم)۔

اثرات:
غدد میں تحریک، عضلات میں تحلیل اور اعصاب میں تسکین پیدا کرتا ہے۔ معطس، مسخن، جالی، مفتح، مدر، مسہل، منفث بلغم، دافع سموم اثرات رکھتا ہے۔
خواص و فوائد
ایرسہ کی جڑ (orris root) بیرونی طور پر استعمال کرنے سے سوزش اور جلن کی تاثیر رکھتا ہے اور اندرونی طور پر استعمال کرنے سے جلن اور سوزش معلوم ہوتی ہے اور اسہال لاتا ہے۔ایرسا کو جب پانی میں پیس کر کسی حصہ بدن پر لیپ کیا جاتا ہے تو تھوڑی دیر کے بعد اس جگہ کچھ لذع اورسوزش محسوس ہونے لگتی ہے جس کی وجہ سے اس مقام پر خون زیادہ مقدار میں جذب ہونے لگتا ہے اور وہ جگہ سرخ ہوجاتی ہے وہاں گرمی معلوم ہونے لگتی ہے، اسی لیے اسے مسخن بھی کہتے ہیں۔

معطس ہونے کی وجہ سے پیس کر نسوار لی جائے تو ناک کی غشاء مخاطی میں اس کا یہی مذکورہ بالا عمل ہوتا ہے اور اس میں لذع ہوکر چھینکیں آنے لگتی ہیں اور غشائے مخاطی سے رطوبت مخاطیہ کا ترشح بڑھ جاتا ہے اور اس طرح اس کی چھینک لانے والی تاثیر عمل میں آتی ہے۔ دافع سموم ہونے کی وجہ سے حشرات الارض اورسانپ ،بچھو،بھیڑ کیلئے طلا کے طور پر لگانا مفید ہے۔
پرانے زہریلے زخموں پر لگانے سے یہ دوا اس جگہ کو گرمی اور جلن پیدا کرکے وہاں صاف خون کو جذب کرنے کا موجب ہوتی ہے جس سے اس جگہ کے گندہ مادہ کے صاف ہونے میں مدد ملتی ہے جس سے آخرکار زخم ہو صاف ہو کر خشک ہو جاتے ہیں۔ اندرونی طور پر جب ایرسا کو چبایا جاتا ہے تو زبان پر کڑواہٹ اور سوزش پیدا کرتی ہے جس کے باعث لعاب زیادہ مقدار میں رسنے لگتا ہے اور اس طرح یہ مدر لعاب دہن تاثیر رکھتی ہے۔

جدید سائنسی تحقیقات
ایرسہ (Iris sibirica ) کی جُڑ یا پتے وغیرہ سے نکالے گئے عرق (extracts )میں ایسے مرکبات (phenolic compounds, flavonoids اور دیگر) پائے گئے ہیں جن کی وجہ سے اس پودے کو antioxidant یعنی آزادٔ ریڈیکل روکنے والا اثر حاصل ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نبات سے بنے ہوئے preparations جسم میں oxidative stress (جو عمر، ذیابیطس، دل کی بیماریوں اور بعض degenerative امراض کی بنیاد ہوتا ہے) کے خلاف تحفظ فراہم کرنے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔
مزید برآں Iris sibirica کے extracts نے antimicrobial یعنی جرثومہ اور فنگس کش اثرات دکھائے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ اس پودے کی خام یا تیار شدہ ادویاتی شکلیں بعض بیکٹیریا یا فنگس کی افزائش کو روک سکتی ہیں، جو انفیکشنز یا زخم کے علاج میں مددگار ہو سکتی ہیں۔
کچھ مطالعوں میں Iris species کو anti‑inflammatory اور hepatoprotective یعنی سوزش کم کرنے اور جگر کی حفاظت کرنے والا پودا قرار دیا گیا ہے۔ یہ خصوصیات خاص طور پر اُن لوگوں کے لیے مفید ہو سکتی ہیں جو oxidative stress, liver toxins یا chronic inflammation سے متاثر ہوں۔
حوالہ جات: (پی ایم سی)۔ (یوکرین سائنٹفک جرنل)۔ (ایم ڈی پی آئی)۔

مقدار خوراک:
ایک سے تین گرام
Discover more from TabeebPedia
Subscribe to get the latest posts sent to your email.


Leave a Reply