
روہیڑا
نام :
عربی میں الفرفار، ساج الصحراء ۔ فارسی میں انار شیطان۔پنجابی میں روہڑا۔ بنگالی میں روڈھا۔ سنسکرت میں روہیتکا اور ہندی میں रोहेड़ा کہتے ہیں۔

(تحریر و تحقیق: حکیم سید عبدالوہاب شاہ شیرازی)
نام انگلش:
Name: Desert Teak
Scientific name: Tecomella undulata
Family: Bignoniaceae
تاثیری نام: | مقام پیدائش: | مزاج طب یونانی: | مزاج طب پاکستانی: | نفع خاص: |
| مسہل، مصفی خون، ہاضم، کاسر ریاح | ہند و پاک | گرم تر | غدی اعصابی | جگر کے لیے |

تعارف:
روہیڑا ایک صحرائی سخت جان درخت ہے جو ایشیا کے خشک اور گرم علاقوں خصوصاً پاکستان (سندھ، پنجاب جنوبی، بلوچستان) اور بھارت (راجستھان، گجرات) کے ریگستانی خطوں میں پایا جاتا ہے۔ اسے صحرائی ماحول کا ’’ملکیاتی خزانہ‘‘ کہا جاتا ہے کیونکہ یہ نہایت کم پانی اور زیادہ گرمی میں بھی زندہ رہتا ہے۔ اس کی لکڑی انتہائی مضبوط ہونے کی وجہ سے روایتی فرنیچر، قیمتی دستکاری، اور صحرائی تعمیرات میں استعمال کی جاتی ہے۔یہ سردیوں میں انتہائی کم درجہ حرارت (0 سے -2 °C) اور گرمیوں میں زیادہ درجہ حرارت (48-50 °C) برداشت کر سکتا ہے۔ روہیڑا خشک سالی، ٹھنڈ، آگ اور ہوا کا مقابلہ کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔ 6.5-8.0 کی رینج میں پی ایچ کی حامل خشک دومی سے لے کر ریتلی لوم کی مٹی کو برداشت کر سکتا ہے۔
دسمبر سے فروری کے دوران یہ درخت اپنے جوبن پر ہوتا ہے۔اس پر پہلے پیلے اور پھر نارنجی پھول کھلتے ہیں، جن کا رنگ کہیں کہیں سرخی مائل ہو جاتا ہے۔ ایک ہی درخت پر تین مختلف رنگوں کے پھولوں کی خوش بو سےصحرائے تھر اور چولستان کا حبس زدہ ماحول قدرے خوش گوار ہو جاتا ہے اور سانسیں معطر ہو جاتی ہیں۔ پرندے اس کی شاخوں پر اپنے آشیانے بناتے ہیں اور یہ تھرپارکر میں چلنے والی طوفانی ہواؤں کو روکنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ آس پاس چرتے مویشیوں کے لیے یہ سائے کا کام بھی دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: روغن ناریل
یہ بھی پڑھیں: روغن مالکنگنی
یہ بھی پڑھیں: روغن سرسوں

تھرپارکر میں ہندوؤں کی کثیر تعداد آباد ہے، جو روہیڑا کو کاٹنا پاپ یعنی گناہ سمجھتے ہیں، کیوں کہ اس درخت کی کٹائی کے دوران تنے سے سرخ سیال نکلتا ہے، جسے یہ خون سے تشبیہ دیتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ہندوؤں میں اس درخت کو کاٹنا گویا ایسا ہی ہے کہ جیسے کسی انسان کو قتل کر دیا ہو۔
یہ درخت طبِ یونانی و آیوروید میں مختلف ادویاتی مقاصد کے لیے بھی معروف ہے،
کیمیاوی و غذائی اجزا:
1. فینیولک مرکبات (Phenolic Compounds)
گلیک ایسڈ (Gallic Acid) ایلاجک ایسڈ (Ellagic Acid) کیفک ایسڈ (Caffeic Acid)
ویراٹرک ایسڈ (Veratric Acid)
2. فلاوونوئڈز (Flavonoids)
کوئرسیٹن (Quercetin) کیمپر فول (Kaempferol) ریوٹن (Rutin)
3. ٹرائٹرپینائیڈز اور اسٹیرولز (Triterpenoids and Sterols)
یرسولک ایسڈ (Ursolic Acid) اولیئنولک ایسڈ (Oleanolic Acid) بیٹولنک ایسڈ (Betulinic Acid)
بیٹا سائیٹوسٹرول (β-Sitosterol) سٹگماسٹیرول (Stigmasterol)
4. لیگنانز، کوئینونز اور انتھراکینونز (Lignans, Quinones, and Anthraquinones)
پینوریسینول (Pinoresinol) لاریسیرسینول (Lariciresinol)
5. گلیکوسائیڈز اور ساپوننز (Glycosides and Saponins)
ٹیکومِن (Tecomin) دیگر glycosides plant extracts میں موجود سابون نما مرکبات
- فیٹی ایسڈز / نباتی تیل (Fatty Acids / Fatty Oils)
اثرات:
روہیڑا محرک غدد محلل عضلات، مقوی اعصاب ہے۔مسہل، مصفی خون، ہاضم، کاسر ریاح اثرات رکھتا ہے۔

خواص و فوائد:
روہیڑا قبض کے لیے مفید ہے، بہترین مسہل ہے، معدے کے زخموں کے لیے مفید ہے۔آیورویدک میں، تنے کی چھال کو عام طور پر لیکوریا، درد، جنسی عوارض، ہاضمے کی خرابی، ایکزیما، اور جلد کے انفیکشن کے علاج کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ دوسری طرف، پاکستان میں، پھولوں اور تنے کی چھال دونوں کو مختلف بیماریوں (ہیپاٹائٹس، یرقان، جنسی امراض،قبض اور ماہواری کی خرابی) کے علاج کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔امراض جلد خارش، داد، چنبل، ایکنی میں بھی مفید ہے۔ روہیڑا کا استعمال تلی کے بڑھنے، ہیپاٹائٹس کے علاج کے لیے بھی کیا جاتا ہے۔ موٹاپے کو کم کرنے کے لیے بھی مفید سمجھا جاتا ہے۔

جدید سائنسی تحقیقات:
روہڑا ایک قدرتی پودا ہے جس کے مختلف حصوں میں موجود اجزا صحت کے لیے کئی فوائد رکھتے ہیں۔ یہ جگر کو محفوظ رکھنے، خون میں شکر کو متوازن کرنے اور جسم میں سوزش کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ ساتھ ہی یہ معدے کے زخم اور قبض کی شکایات کو بہتر بناتا ہے اور اینٹی بیکٹیریل خصوصیات کے باعث جراثیم اور انفیکشن کے خلاف معاون ثابت ہوتا ہے۔مزید یہ کہ روہڑا کے کچھ اجزا وزن اور چربی کے جمع ہونے کو روکنے میں مددگار ہیں۔
پاکستان میں کی گئی ایک تحقیق کے مطابق، روہڑا کی چھال کا عرق جب پیراسیٹامول (acetaminophen) سے متاثرہ چوہوں کو دیا گیا، تو جگر کے (AST, ALT, ALP) کی سطح نمایاں طور پر کم ہوئی، جس سے ظاہر ہوا کہ عرق نے جگر کو زہریلے اثر سے محفوظ رکھا۔ اسی طرح، ایک بین الاقوامی مطالعے میں روہڑا کی چھال کے methanolic extract نے جگر کے زخم (hepatotoxicity) میں تحفظ فراہم کیا اور hepatocyte (جگر کے خلیات) کی حفاظت برقرار رکھی۔یہ جگر کو زہریلے مادوں (جیسے الکحل اور بعض کیمیکلز) کی وجہ سے ہونے والے نقصان سے بچانے میں مدد کرتا ہے۔

ایک اور تحقیق میں روہڑا کے مختلف حصوں (چھال، تنہ، پتے) کے عرق نے آزاد ریڈیکلز کو ختم کرنے کی مضبوط صلاحیت دکھائی، جو جسم کی بافتوں کی حفاظت کرتی ہے۔ علاوہ ازیں، ایک پاکستانی مطالعے میں روہڑا کے عرق نے سوزش کو نمایاں طور پر کم کیا اور معدے کے زخم سے بچاؤ میں مدد دی۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ قبض کے لیے بھی مفید ثابت ہوا۔
حوالہ جات: (The Professional Medical Journal)۔ (EPA )۔ (pubmed)۔ (PMC )۔

مقدار خوراک:
دس گرام
Discover more from TabeebPedia
Subscribe to get the latest posts sent to your email.



Leave a Reply